3 نومبر 2012 - 20:30

پناہ گزین فسطینیوں کی وطن واپسی کے حق سے متعلق نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کے بیانات کے خلاف ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ پٹی میں مظاہرہ کیا ہے۔

ابنا: غزہ کے فلسطینیوں نے ہفتے کے دن نماز مغرب کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں جلوس نکال کر پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق سے محمود عباس کی پسپائي کی مذمت کی۔ان مظاہروں میں فلسطینی جماعتوں کی رہنما بھی شریک تھے ۔ انھوں نے پناہ گزیں فلسطینیوں کی وطن واپسی کو ایک مقدس حق قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں فلسطینی سرزمین کی ایک بالشت کو بھی نظر انداز نہیں کریں گے۔نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے ایسی حالت میں پناہ گزیں فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق سے پسپائي اختیار کی ہے کہ جب قرارداد ایک سو چورانوے سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں تک میں اس حق کو تسلیم اور ان فلسطینیوں کو تاوان ادا کۓ جانے کی تاکید کی گئي ہے۔سیاسی مبصرین محمود عباس کی جانب سے  فلسطینیوں کے حقوق کے نظر انداز کۓ جانے کو فلسطینیوں کی حقوق کی پامالی سے متعلق امریکہ اور اسرائيل کی سازشوں کا حصہ جانتے ہیں۔فلسطینیوں نے محمود عباس کے موقف پر وسیع پیمانے پر تنقید کی ہے۔ فلسطین کے مختلف حکام اور شخصیات نے محمود عباس کی جانب سے فلسطینی عوام سے معافی مانگے جانے اور ان پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے حال ہی میں ایک صیہونی ٹی وی چينل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پناہ گزین فلسطینیوں کی وطن واپسی کو ایک فراموش شدہ اور ناقابل عمل مسئلہ جانتے ہیں۔محمود عباس نے مزید کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین انیس سو سڑسٹھ کی حدود یعنی غزہ پٹی ، مغربی کنارے اور بیت المقدس پر مشتمل ہے اور جن علاقوں پر صیہونی حکومت نے انیس سو اڑتالیس میں قبضہ کر لیا تھا وہ اسرائيل سے متعلق ہیں۔محمود عباس نے اپنے گستاخانہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید کہاکہ جب تک میں اقتدار میں ہوں تب تک فلسطینی عوام کو تیسرے انتفاضہ کی اجازت نہیں دوں گا۔محمود عباس نے صیہونیوں کے ساتھ تیسرے انتفاضہ کی روک تھام کا وعدہ ایسی حالت میں کیا ہےکہ جب وہ اور ان کا ٹولہ فلسطینی عوام کے انتفاضہ کو اپنے مقاصد کے حصول سے روکنے کے سلسلے میں ناکام رہا ہے۔ اور وہ کبھی بھی فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔فلسطین کی صورتحال اور فلسطینی عوام کے بڑھتے ہوئے احتجاج سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ کا دائرہ مسلسل پھیلتا جارہا ہے اور عملی طور پر فلسطینی استقامت ایک تقدیر ساز مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس کے باعث اسرائیلی حکومت اور اس کے پٹھو خوف و ہراس کا شکار ہوگۓ ہیں۔دریں اثناء مشرق وسطی امن ساز باز کے نتیجے میں وجود میں آنے والی نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے بخوبی پتہ چلتا ہےکہ اس انتظامیہ نے ہمیشہ فلسطینی سرزمین میں صیہونی حکومت کی پالیسیوں کو ہی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔  ......./169